کہا اُس نے
گلستاں کو محبت ہے بہاروں سے
کہا میں نے
خزاں تو پھر بھی آنی ہے
کہا اُس نے
محبت چاند سی روشن
کہا میں نے
کرن کب ہاتھ آتی ہے
کہا اُس نے
محبت کھیل دل کا ہے
کہا میں نے
محبت تو ہراتی ہے
کہا اُس نے
پتنگے کو کبھی دیکھا
کہا میں نے
محبت تو جلاتی ہے
کہا اُس نے
محبت اک نگینہ
کہا میں نے
دکھوں کا ایک زینہ ہے
کہا اُس نے
محبت تو ستارا ہے
کہا میں نے
اسے تو ڈوب جانا ہے
تو پھر کب یہ ہمارا ہے
کہا اُس نے
محبت میں جہاں کا حسن سارا ہے
کہا میں نے
یہ بہلاوا ہے اور بس استعارہ ہے
کہا اُس نے
اری پگلی
محبت کر کے تو دیکھیں
یہ رنگینی نگاہوں کو دکھاتی ہے
کہا میں نے
ارے چھوڑو
کہاں پھر دیکھنے کا وقت ملتا ہے
محبت مار جاتی ہے