محبت مجھ سے کرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو(گیت)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

محبت مجھ سے کرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو
مرے شعروں پہ مرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو

وہ مہکی مہکی صبحیں اور وہ بہکی ہوئی راتیں
کہو مجھ کو نہیں بھولیں تمھاری دلنشیں باتیں

اکیلے آہ بھرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو
مرے شعروں پہ مرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو

تمھیں کیا یاد ہے مجھ سے کبھی دل کو لگایا تھا
سنا دو پھر سے الفت کا وہ اک نغمہ جو گایا تھا

جدا ہونے سے ڈرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو
مرے شعروں پہ مرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو

تمھارا خوشبوؤں میں ڈوب کر ملنا نہیں بھولا
نئے کپڑے پہن کر پھول سا کھلنا نہیں بھولا

مری خاطر سنورتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو
مرے شعروں پہ مرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو

محبت مجھ سے کرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو
مرے شعروں پہ مرتے ہو ذرا یہ پھر سے کہہ ڈالو

Rate it:
Views: 823
08 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL