محبت محروم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمحبت محروم نہیں ہوتی
اپنے اندر چھپائے رکھتی ہے
ان کہی باتیں ان سنے قصے
لامکاں سے حدود ہستی تک
پھیلی ہوئی ہے مسافت اسکی
کبھی پاس کبھی نارسا ہے
مگر کبھی معدوم نہیں ہوتی
محبت محروم نہیںہوتی
یہ الگ بات ہے کہ نا آشنا ہے
ملمع ساز نگاہوں کے ہشت پہلو سے
مگر یہی تو حسن ہے اسکا
کچھ بھی ہوتا نہ اس کے دامن میں
محبت حاصل و موجود سے گر آزاد نہ ہوتی
زمانہ کب کا مٹ گیا ہوتا
محبت گر معصوم نہیں ہوتی
یہ تو محرومیاں مٹاتی ہے
محبت خود کبھی محروم نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






