محبت کی بے چینی
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل , Karachi
محبت سچی ہو تو پھر مکمل ہونی چاہیے
ورنہ ادھوری بات روح کو بے چین کرتی ہے
جو لب ہلتے نہیں پر آنکھ سب کچھ کہہ رہی ہوتی
یہ خامشی اکثر نگاہوں کو بھی بے چین کرتی ہے
کبھی جو خواب ہوتے ہیں فقط آنکھوں کی زینت سے
انہیں تعبیر میں لانا ہمیں بے چین کرتی ہے
جو وعدے وقت پر پورے نہ ہوں دل ٹوٹ جاتا ہے
یہ چھوٹی چھوٹی کوتاہی بڑی بے چین کرتی ہے
کہ سچ کہنا بھی ممکن ہو مگر دشوار لگتی ہے
یہ الجھن دل کے اندر کی بہت بے چین کرتی ہے
جو پل بیتے تھے اُس کے ساتھ یاد آتے ہیں اکثر
یہ ماضی کی ہوا بھی دل کو بے چین کرتی ہے
ارم کے نام سے جو دل دُعا مانگے سحر و شام
تو وہ خاموشی بھی الفت کو بے چین کرتی ہے
محبت گر ہو کاغذ پر تو جل جاتی ہے لمحوں میں
یہ سچی بات ہر جھوٹے کو بے چین کرتی ہے
اگر خود کو بھی کھو بیٹھیں کسی کی چاہ میں جا کر
تو اپنی ہی یہ پہچان بھی بے چین کرتی ہے
کوئی تو حرف ایسا ہو جو اس کا نام لے آئے
یہ خامشی کی شدت بھی ہمیں بے چین کرتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






