مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل, Karachi
شکر الحمد للہ جو تم نے دن اپنوں کے ساتھ گزارا ہے
مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے نہ کوئی دنیا میں ہمارا ہے
یہ عشق بڑا انمول خزانہ مظہرؔ جو تم پر نثارا ہے
یہ دل نہ کسی اور پر مائل نہ کوئی اور دِل کو پیارا ہے
جو زخم ملا تیرے عشق میں اے جانِ جاں وہ گوارا ہے
یہ عشق کا رستہ جو چنا ہم نے یہی سچّا سہارا ہے
یہ دل جو تمہاری نظر کا شعلہ بن کر سنوارا ہے
یہ بزمِ محبت وہ بزم ہے جس کا نہ کوئی کنارا ہے
مظہرؔ نہ گلہ کوئی ہم کو دنیا سے نہ کوئی ہمارا ہے
یہ قلب جو تیرے نام پر دھڑکا ہے یہی دل کا اشارا ہے
یہ عشق نرالا ہے مظہرؔ جو دل میں تمہارے اُتارا ہے
یہ شوق جو سینے میں جاگے وہی سچّے عشق کا سہارا ہے
یہ بزمِ وفا اپنی دنیا میں ہر سو چمکتا ستارا ہے
یہ عشق جو تم سے ملا ہے یہی عشق یہی پیارا ہے
رستے ہوں دشوار مگر پھر بھی یہی دل نے پکارا ہے
یہ راہِ محبت کا دستور سدا دل کو گوارا ہے
مظہرؔ نہ جھکا کوئی دل پھر بھی نہ کوئی شکست ہمارا ہے
یہ نغمہ جو لب پر رواں ہے بس تم ہی نے اس کو سنوارا ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






