مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل, Karachi
شکر الحمد للہ جو تم نے دن اپنوں کے ساتھ گزارا ہے
مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے نہ کوئی دنیا میں ہمارا ہے
یہ عشق بڑا انمول خزانہ مظہرؔ جو تم پر نثارا ہے
یہ دل نہ کسی اور پر مائل نہ کوئی اور دِل کو پیارا ہے
جو زخم ملا تیرے عشق میں اے جانِ جاں وہ گوارا ہے
یہ عشق کا رستہ جو چنا ہم نے یہی سچّا سہارا ہے
یہ دل جو تمہاری نظر کا شعلہ بن کر سنوارا ہے
یہ بزمِ محبت وہ بزم ہے جس کا نہ کوئی کنارا ہے
مظہرؔ نہ گلہ کوئی ہم کو دنیا سے نہ کوئی ہمارا ہے
یہ قلب جو تیرے نام پر دھڑکا ہے یہی دل کا اشارا ہے
یہ عشق نرالا ہے مظہرؔ جو دل میں تمہارے اُتارا ہے
یہ شوق جو سینے میں جاگے وہی سچّے عشق کا سہارا ہے
یہ بزمِ وفا اپنی دنیا میں ہر سو چمکتا ستارا ہے
یہ عشق جو تم سے ملا ہے یہی عشق یہی پیارا ہے
رستے ہوں دشوار مگر پھر بھی یہی دل نے پکارا ہے
یہ راہِ محبت کا دستور سدا دل کو گوارا ہے
مظہرؔ نہ جھکا کوئی دل پھر بھی نہ کوئی شکست ہمارا ہے
یہ نغمہ جو لب پر رواں ہے بس تم ہی نے اس کو سنوارا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






