مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل, Karachi
شکر الحمد للہ جو تم نے دن اپنوں کے ساتھ گزارا ہے
مجھے نہ گلا ہے نہ شکوہ کسی سے نہ کوئی دنیا میں ہمارا ہے
یہ عشق بڑا انمول خزانہ مظہرؔ جو تم پر نثارا ہے
یہ دل نہ کسی اور پر مائل نہ کوئی اور دِل کو پیارا ہے
جو زخم ملا تیرے عشق میں اے جانِ جاں وہ گوارا ہے
یہ عشق کا رستہ جو چنا ہم نے یہی سچّا سہارا ہے
یہ دل جو تمہاری نظر کا شعلہ بن کر سنوارا ہے
یہ بزمِ محبت وہ بزم ہے جس کا نہ کوئی کنارا ہے
مظہرؔ نہ گلہ کوئی ہم کو دنیا سے نہ کوئی ہمارا ہے
یہ قلب جو تیرے نام پر دھڑکا ہے یہی دل کا اشارا ہے
یہ عشق نرالا ہے مظہرؔ جو دل میں تمہارے اُتارا ہے
یہ شوق جو سینے میں جاگے وہی سچّے عشق کا سہارا ہے
یہ بزمِ وفا اپنی دنیا میں ہر سو چمکتا ستارا ہے
یہ عشق جو تم سے ملا ہے یہی عشق یہی پیارا ہے
رستے ہوں دشوار مگر پھر بھی یہی دل نے پکارا ہے
یہ راہِ محبت کا دستور سدا دل کو گوارا ہے
مظہرؔ نہ جھکا کوئی دل پھر بھی نہ کوئی شکست ہمارا ہے
یہ نغمہ جو لب پر رواں ہے بس تم ہی نے اس کو سنوارا ہے
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






