محبت کی طبیعت میں طلسماتی کرشمہ ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت کی طبیعت میں طلسماتی کرشمہ ہے
مگر یہ دنیا کہتی ہے محبت ایک فتنہ ہے
محبت پا کے دیکھا ہے، محبت کھو کے دیکھا ہے
محبت میں کبھی تم نے کسی کا ہو کے دیکھا ہے
محبت نے کبھی تم کو اکیلے میں رلایا ہے
محبت میں کبھی تم نے جہاں کا غم بھلایا ہے
محبت میں کبھی راتوں میں جاگے ہو اکیلے تم
محبت میں کبھی تنہا ستاروں سے ہو کھیلے تم
کبھی جھرنوں کی میٹھی راگنی نے دل بہلایا ہے
کبھی بادِ صبا کے لمس نے دل کو دہلایا ہے
پرندوں کے سریلے نغموں کی آواز میں تم نے
کسی انجانے راہی کا کوئی پیغام پایا ہے
کسی ان دیکھے منظر میں کبھی تم ڈوبے ہو ایسے
کہ یہ منظر تمہاری ذات ہی کا عکس ہو جیسے
محبت کورے کاغذ پہ کئی نقشے بناتی ہے
محبت روتی آنکھوں کو محبت سے ہنساتی ہے
محبت کے طلسماتی کرشمے وہ سمجھتے ہیں
محبت کے لئے روتے، محبت میں جو ہنستے ہیں
مگر جو لفظِ الفت کی حقیقت سے نہیں آگاہ
مانگتے ہیں محبت کی راہ چلنے سے وہی پناہ
محبت کے کرشموں سے نہیں ہوتے ہیں جو آگاہ
محبت کے طلسماتی کرشمے جانتے ہیں ہم
محبت کو جبھی تو زندگی سا مانتے ہیں ہم
محبت کی طبیعت میں طلسماتی کرشمہ ہے
مگر یہ دنیا کہتی ہے محبت ایک فتنہ ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







