محبت کی پرواز
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attock یوسف کی کہانی کچھ اسکی، کچھ میری زبانی
سوری کہوں گا، گر خطا ہو جائے یا ہو نادانی
اک شام سہانی تھی، اور چڑھتی جوانی تھی
چڑھا میں چھت پہ، نظر جو سامنے جانی تھی
دیکھا چہرہ ماہتاب کا، آنکھیں میری چندھیا گئیں
نہ ٹال سکا نینوں کے تیر، آنکھیں میری پتھرا گئیں
وہ شاہکار حسن تھا، مجھے طلبگار حسن بنا گیا
میرے دل کی وادیوں میں چراغ محبت جلا گیا
میں اس کی زلفوں کا اسیر، وہ میرے پیار کا سفیر تھا
محبت کی پرواز تھی، جنون کا لفظ شاید حقیر تھا
ڈوبے محبت کے سمندر میں تو ڈوبتے ہی چلے گئے
کبھی لاہور، کبھی مری، کبھی قصور ہی چلے گئے
دیواروں کے سوراخوں سے کبھی نامہ بر بھیجا
کبھی مٹھائی کے ڈبوں میں گفٹ پیک کر بھیجا
محبت کا سفر تھا، راہوں میں بچھے تھے خار
زمانہ دشمن تھا، سجن تھے بس کوئی دو چار
زمانے نے ستم پہ ستم جب ہم پے گرایا
اسے محبت کا اصول پھر ہم نے سکھایا
جاوید تجھے پتہ کیا ہے تو ہے بے خبر
محبت کی چوٹی کو کیسے کیا ہم نے سر
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔







