محبت یاد آتی ہے

Poet: عمیر اکبر By: umair Akbar tabish , Rawalpindi

کبھی نہ میں شاعر تھا
نہ لکھا لکھا تھا کبھی میں نے
لفظوں میں نہیں اتا تھا یوں جذبات کو لکھنا
کسی احساس کو لکھنا
یہ کمال محبت ہے جس نے مجھ کو سکھلایا
تھمایا ہاتھ میں قلم اور کاغذ مجھ کو پکڑایا
جو دیکھا تو تصو ر میں تیرا چہرہ نظر آیا
مصور تو نہیں تھا جو کوئی تصویر بنا ڈالے
نہ شاعر اتنا اچھا کے کوئی تحریر بنا ڈالے
تیری یادیں تیری باتیں تیرا وہ مسکرانا اور
غصے میں تیرا یوں ہی بس روٹھ جانا اور
مجھے پھر سے منانے کا مل جانا بہانہ اک
کتنے اچھے لگتے ہیں وہ یادوں کے سبھی منظر
جو تیری قربت میں گزرے تھے
زہر میٹھا یہ پی کر بھی ، جدائی میں جی کر بھی
ہونٹھوں پہ تبسم کیوں ناجانے آ ہی جاتا ہے
تیری یادوں میں تابش وہ آج بھی جب مسکراتی ہے
محبت یاد آتی ہے ، محبت یاد آتی ہے

Rate it:
Views: 645
04 Oct, 2017
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL