محبتوں پر دل حزیں کو نثار کرنا
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiمحبتوں پر دل حزیں کو نثار کرنا
ہے یوں کہ جیسے جنوں میں خود ہی پہ وار کرنا
عجب نہیں وہ بھی میرے رستے پہ خود کو ڈالے
وہ جس نے سیکھا ہے قافلوں کو غبار کرنا
وہ ایک بارش کی منتظر بے شمار آنکھیں
وہ ایک طوفاں کا بستیوں کو شمار کرنا
مجھے تو اس نے تمام لمحے وہی دئے ہیں
وہی جو اہل جنوں کو ہوں اختیار کرنا
شفق اتر کر تمہارے پلو سے بندھ گئی ہے
جو ہو سکے تو سحر تلک یہ حصار کرنا
اذیتوں کا خمیر زخم نہاں سے اٹھا
کبھی جو چاہا ہے دل کا صحرا بہار کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






