وہ دل کی جھیل میں اترا تھا ایک ساعت کو
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiوہ دل کی جھیل میں اترا تھا ایک ساعت کو
یہ عمر ہو گئی ہے سہتے اس ملامت کو
کہیں تو سایۂ دیوار آگہی مل جائے
کوئی تو آئے کرے ختم اس مسافت کو
تمہیں سے مل کے مری دل سے آشنائی ہو
تمہارے بعد ہی جانا ہے اس قیامت کو
وہ ایک شخص مجھے کر گیا سبھی سے جدا
ترس رہا ہوں میں جس شخص کی رفاقت کو
عجیب لوگ ہیں اس شہر کے بہ نام وفا
ہوائیں دیتے ہیں ہر شعلۂ عداوت کو
جواز بھی تو کوئی ہو مری تباہی کا
چھپا رہے ہو تبسم میں کیوں ندامت کو
گئے دنوں کا مناتے ہو سوگ پھر عابدؔ
ہمیں یقیں ہے نہ بدلو گے اپنی عادت کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






