محبتوں کا بھرم ہم سنبھال رکھتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامحبتوں کا بھرم ہم سنبھال رکھتے ہیں
کہ ہر طرح سے کسی کا خیال رکھتے ہیں
کوئی جواب تو دے گا مری رفاقت کا
یہ اس کے سامنے جا کر سوال رکھتے ہیں
عیاں تو رکھتے ہیں چہرے پہ اپنی خوشیوں کو
ہم اپنے سینے میں سارے ملال رکھتے ہیں
یہی شعورِ محبت ملا ہے دنیا سے
ہر اک یقیں کو گماں سے نکال رکھتے ہیں
سبھی کی آنکھ ہے میری انگشتری کی طرف
کہ شہر والے بھی خوۓ جمال رکھتے ہیں
ہے ایک ہاتھ میں تلوار بر سرِ پیکار
سو ایک ہاتھ میں ہم اپنی ڈھال رکھتے ہیں
کوئی جو پوچھے وفاؤں کا حُسن اے وشمہ
ہم ان کے سامنے اپنی مثال رکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






