محبتوں کے یقیں میں آ کر دغا ہوا نا وہی ہوا نا

Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodha

محبتوں کے یقیں میں آ کر دغا ہوا نا وہی ہوا نا
وہ ایک ضد پہ زمانہ سارا خفا ہوا نا ہوائی ہوا نا

وہ جس کی خاطر زمانے بھر سے لی دشمنی تم نے عمر پھر کی
وہ شخص تم سے کسی گلی میں جُدا ہوا نا وہی ہوا نا

وہ جس کو تم مٹانا چاہا تھا دل کے خستہ سے کاغذوں سے
وہ نام اکثر اداس پیڑوں پہ خود لکھا نا وہی ہوا نا

بچھڑتے لمحے وہ جس کی آنکھوں میں اشک آئے تھے میرے غم میں
آج غیروں کے ساتھ ہنستے ہوئے ملا نا وہی ہوا نا

وہ جس کی تعبیر ڈھونڈنے میں گنوائی نیندیں تھیں عمر بھر کی
وہ خواب آنکھوں کے ساحلوں پہ ہی جل بجھا نا وہی ہوا نا

کہا تھا چھوڑو سراب رستے نہ پکڑو کاغذ کی تتلیوں کو
اِنہیں خیالوں میں وقت سارا گزر گیا نا وہی ہوا نا

وجود تو بانٹ لے گیا تھا زمانہ تم سے عقیل اب تو
کسی کی یادوں کا ایک سایہ ہی سنگ چلا نا وہی ہوا نا

Rate it:
Views: 1420
25 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL