محبتوں کے یقیں میں آ کر دغا ہوا نا وہی ہوا نا
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaمحبتوں کے یقیں میں آ کر دغا ہوا نا وہی ہوا نا
وہ ایک ضد پہ زمانہ سارا خفا ہوا نا ہوائی ہوا نا
وہ جس کی خاطر زمانے بھر سے لی دشمنی تم نے عمر پھر کی
وہ شخص تم سے کسی گلی میں جُدا ہوا نا وہی ہوا نا
وہ جس کو تم مٹانا چاہا تھا دل کے خستہ سے کاغذوں سے
وہ نام اکثر اداس پیڑوں پہ خود لکھا نا وہی ہوا نا
بچھڑتے لمحے وہ جس کی آنکھوں میں اشک آئے تھے میرے غم میں
آج غیروں کے ساتھ ہنستے ہوئے ملا نا وہی ہوا نا
وہ جس کی تعبیر ڈھونڈنے میں گنوائی نیندیں تھیں عمر بھر کی
وہ خواب آنکھوں کے ساحلوں پہ ہی جل بجھا نا وہی ہوا نا
کہا تھا چھوڑو سراب رستے نہ پکڑو کاغذ کی تتلیوں کو
اِنہیں خیالوں میں وقت سارا گزر گیا نا وہی ہوا نا
وجود تو بانٹ لے گیا تھا زمانہ تم سے عقیل اب تو
کسی کی یادوں کا ایک سایہ ہی سنگ چلا نا وہی ہوا نا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






