وہ ادھورے زیست کے لفظ تھے انہیں کیا لکھو گے یہ جان کر

Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodha

وہ ادھورے زیست کے لفظ تھے انہیں کیا لکھو گے یہ جان کر
بڑی مختصر سی ہے داستاں اِسے کیا سنو گے یہ جان کر

کچھ خواب تھے مرے ہمسفر کچھ خواہشوں کا ملال تھا
مرے دل میں کس کا خیال تھا اب کیا کرو گے یہ جان کر

وہ گلاب تیری یاد کے کہیں راستوں میں بکھر گئے
سر ِعکس مجھ کو خزاں میں پھر یونہی کب ملو گے یہ جان کر

اک ترے فراق کا زہر ہی مرے دل سے روح میں اُتر گیا
میں ٹوٹ کر ہوں بکھر گیا مجھے کیا چنو گے یہ جان کر

تھی خاموشیوں کے وہ داستاں جسے کہہ کے لب بھی ہلے نہیں
جسے تم نے سن کے سنا نہیں پھر کیا کہو گے یہ جان کر

تری مسکراہٹ عزیز تھی کبھی کچھ بھی تم سے کہا نہیں
مرا کس طرح کا نصیب ہے تم رو پڑ گے یہ جان کر

ہیں طویل تر یہ مسافتیں شب و روز اِن کے خیال میں
مجھے منزلوں کی خبر نہیں تم کیا چلو گے یہ جان کر

Rate it:
Views: 912
25 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL