وہ ادھورے زیست کے لفظ تھے انہیں کیا لکھو گے یہ جان کر
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaوہ ادھورے زیست کے لفظ تھے انہیں کیا لکھو گے یہ جان کر
بڑی مختصر سی ہے داستاں اِسے کیا سنو گے یہ جان کر
کچھ خواب تھے مرے ہمسفر کچھ خواہشوں کا ملال تھا
مرے دل میں کس کا خیال تھا اب کیا کرو گے یہ جان کر
وہ گلاب تیری یاد کے کہیں راستوں میں بکھر گئے
سر ِعکس مجھ کو خزاں میں پھر یونہی کب ملو گے یہ جان کر
اک ترے فراق کا زہر ہی مرے دل سے روح میں اُتر گیا
میں ٹوٹ کر ہوں بکھر گیا مجھے کیا چنو گے یہ جان کر
تھی خاموشیوں کے وہ داستاں جسے کہہ کے لب بھی ہلے نہیں
جسے تم نے سن کے سنا نہیں پھر کیا کہو گے یہ جان کر
تری مسکراہٹ عزیز تھی کبھی کچھ بھی تم سے کہا نہیں
مرا کس طرح کا نصیب ہے تم رو پڑ گے یہ جان کر
ہیں طویل تر یہ مسافتیں شب و روز اِن کے خیال میں
مجھے منزلوں کی خبر نہیں تم کیا چلو گے یہ جان کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






