محروم تمنا
Poet: Ishraq Jamal Ashar CHishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi زندگی لے کے کس موڑ پر آئی ہے
بے رخی اسکے لہجے میں در آئی ہے
دیکھ کر مجھ کو رخ پھیر لیتی ہے وہ
اب نہ آنکھوں میں اسکی شناسائی ہے
میں تو اب بھی فقط اس سے وابستہ ہوں
کس سے جاکر کہوں کون ہر جائی ہے
حال پوچھا مگر تلخ لہجے کیساتھ
میری قسمت میں یہ عزت افزائی ہے
کل جو شب اسکو دیکھا تو ایسا لگا
حور جیسے زمیں پر اتر آئی ہے
اشک آنکھوں سے بہنے کا یہ راز ہے
آج پھر اسکی شدت سے یاد آئی ہے
اسکی یادوں نے جب بھی ستایا اشہر
ایک آہ دل سے ہونٹوں تلک آئی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






