مکافات عمل
Poet: Ishraq Jamal Ashar CHishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi سنا ہے وہ دست ستم کٹ گیا ہے
سنا ہے وہ جاہ و حشم مٹ گیا ہے
جو خورشید حق کو چھپانے چلا تھا
وہ ظلمت کا ابر ستم چھٹ گیا ہے
وہ ظالم گروہ جس نے تقسیم چاہی
وہ خود کتنے ٹکڑوں میں اب بٹ گیا ہے
یہ ہے بحر ظلمت یہاں وہ ہی ابھرا
جو طوفاں کی راہوں میں خود ڈٹ گیا ہے
نہ دیکھو حقارت سے چہرے کو میرے
غبار سفر سے یہ سر اٹ گیا ہے
تمہاری ہی راہوں سے کانٹے چنے ہیں
ان ہی سے یہ دامن میرا پھٹ گیا ہے
جو غیروں سے لٹ پٹ کے آیا تھا اشہر
وہ اپنوں میں آکر بھی لٹ پٹ گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






