محفل میں عاشقوں کی
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriمحفل میں عاشقوں کے یوں وہ جناب آئے
جیسے کہ میکدے میں شب کو شراب آئے
محروم سب سے مجھ کو خدایا کیا ہوا ہے
نہ آئے وہ نہ آئے کوئی تو خواب آئے
کل شب میں دیکھتا تھا مہ چودھویں چمکتا
تم مجھ کو یاد آئے اور بے حساب آئے
محفل میں غیرکی وہ ہم کو بلا رہے تھے
دل نے کہا کہ بیٹھیں پر دے جواب آئے
گل پر نہ گنگنائے گلشن میں کوئی بلبل
گر وہ یہاں پہ آئے اور بے نقاب آئے
واعظ کو بھی تو دیکھو آئے ہیں اس گلی سے
یہ پارسا گئے تھے ہو کر خراب آئے
غیروں کے ساتھ ہنستے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
وہ میرے پاس آئے جیسے عذاب آئے
جراَت نہیں تھی ہم میں بے حوصلہ سا دل تھا
بوسہ نہ لے سکے تو پاؤں کو داب آئے
ہم معتدل نہیں ہیں کسی ایک بھی ہنر میں
چپ ہوں تو موت آئےروئیں سیلاب آئے
اس ماہ رخ کاچہرہ تم کو دکھا بھی دیں گے
کچھ وقت دو ہمیں کہ شبِ ماہ تاب آئے
اس لب کو چومنا ہے اک جوئے شیر لانا
کئی بار ہم گئے نہ کبھی کامیاب آئے
جب کم سنی میں اتنے عاشق ہیں شانؔ ان کے
تو سوچ کیا بنے گا جو ان پر شباب آئے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






