محو ء تماشہِ حیات

Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahore

تھام کر کاغذ ھاتھ میں
دبا کر قلم دانت میں
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں
ورق ِ غمگسار پہ
چاک گریباں کرتی ھوئی
ھر لمحہ ءگریزاں
ٹٹولتی ھوئی
ماضی کے قافلے
کھوجتی ھوئی
فرداء کے فاصلے
ست رنگی من چاھے حال کے تلازم
آنچل میں سنبھال کے
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں
موند کر آنکھیں مانپتی ھوئی
تیرے حسن کے تراشے
جانچتی ہوئی
سماعتوں کی گود میں سجا کر
تیرے مدھر کلمات کی لوری
ڈگ بھرتی ھوئی پل بھر میں کبھی
آھستہ اھستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خراماں خراماں
خیالوں میں تیرے ساتھ
یکدم ویرانیوں کے پہلو میں
قہقہہ فلک شگاف
کبھی ھلکا سا مانوس سا تبسم
لجاتا ہوا میرے لب پہ
گویا
اس خرابے میں
ھجر کے عالم میں
تو ھو میرے ساتھ
مگر تا حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں

Rate it:
Views: 539
27 Apr, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL