مداوا نہیں ممکن تماشہ بھی نہ دیکھے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمداوا نہیں ممکن تماشہ بھی نہ دیکھے
جو ہنستے نہیں دیکھا تو روتا بھی نہ دیکھے
ہے جانا ہی جو اُسکو تو جاتے ہوے مُڑ کے
وہ بہتا مِری آنکھوں سے جھرنا بھی نہ دیکھے
مِرا منتظر چہرہ کبھی اپنی محبت میں
جو روشن نہیں دیکھا تو بجھتا بھی نہ دیکھے
گزر ہی گئی ہے زندگی اُس نے مگر مجھکو
نہ جیتے کبھی دیکھا تو مرتا بھی نہ دیکھے
خدا خیر کرے خبر اُس کی نہیں کب سے
وہ سکھی رہے ہر دم میرا سایہ بھی نہ دیکھے
دلِ ناداں کچھ تو حوصلہ اب کرو تم بھی
نیٔا شمس ِچاہت وہ اُبھرتا بھی نہ دیکھے
(بحر طویل مثمن سالم ۔۔۔فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن)
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






