مدت سے دامن دل میں اٹکا یہ کانٹا کیوں ھے
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)مدت سے دامن دل میں اٹکا یہ کانٹا کیوں ھے
وہ رگ جاں سے بھی اتنا قریب آیا کیوں ھے
ماہ تمام تو میری چشم نمناک میں ھے
پھر افلاک پہ تاروں کا جال پھیلا کیوں ھے
پھر اسکے ناوک سے کوئ قتل ھوا ھے شائد
آج رنگ حنا اسکی ھتیلی پہ بھڑکا کیوں ھے
شبنم سے پھولوں کو رعنائی تو ملی ھے لیکن
پھر آج بلبل کا بہاراں میں دامن چاک ھوا کیوں ھے
روداد محبت میں دل پہ یہ سانحہ تو بارھا گزرا
پھراشکوں کا پلکوں سے خودکشی کا معاملہ کیوں ھے
اک پھول کا تحفہ جو اسنے کبھی چاھت سے دیا تھا
احساس کی ڈالی پر وہ خیال جمال چمٹا کیوں ھے
زندگی تو کب سے تن ناتواں سے خون چوس چکی
آلام کی شدت سے پھر خون جگر آج بہا کیوں ھے
اگرچہ بجھا دیے ھیں ھم نے یادوں کے چراغ
آج کی شب پھر جشن چراغاں کا اندیشہ کیوں ھے
حسن اور بھی لوگ صفحہءھستی پہ متمکن ھیں مگر
پھران پرکیف نظاروں میں اسکی تصویر کا شائبہ کیوں ھے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






