مدت سے دامن دل میں اٹکا یہ کانٹا کیوں ھے

Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)

مدت سے دامن دل میں اٹکا یہ کانٹا کیوں ھے
وہ رگ جاں سے بھی اتنا قریب آیا کیوں ھے
ماہ تمام تو میری چشم نمناک میں ھے
پھر افلاک پہ تاروں کا جال پھیلا کیوں ھے
پھر اسکے ناوک سے کوئ قتل ھوا ھے شائد
آج رنگ حنا اسکی ھتیلی پہ بھڑکا کیوں ھے
شبنم سے پھولوں کو رعنائی تو ملی ھے لیکن
پھر آج بلبل کا بہاراں میں دامن چاک ھوا کیوں ھے
روداد محبت میں دل پہ یہ سانحہ تو بارھا گزرا
پھراشکوں کا پلکوں سے خودکشی کا معاملہ کیوں ھے
اک پھول کا تحفہ جو اسنے کبھی چاھت سے دیا تھا
احساس کی ڈالی پر وہ خیال جمال چمٹا کیوں ھے
زندگی تو کب سے تن ناتواں سے خون چوس چکی
آلام کی شدت سے پھر خون جگر آج بہا کیوں ھے
اگرچہ بجھا دیے ھیں ھم نے یادوں کے چراغ
آج کی شب پھر جشن چراغاں کا اندیشہ کیوں ھے
حسن اور بھی لوگ صفحہءھستی پہ متمکن ھیں مگر
پھران پرکیف نظاروں میں اسکی تصویر کا شائبہ کیوں ھے

Rate it:
Views: 692
26 Jul, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL