باتوں کا جادوگر

Poet: ارسلان حُسین By: Arsalan Hussain, Dubai

وہ اِک لڑکی
جسے گفتگو پر عبور نہ تھی
جو الفاظ کے مفہوم میں اُلجھی رہتی
جو عنوان کی تلاش میں کہو جاتی
یوں اسکا دل دھڑکتا تھا
زباں لرزہ یوں رہتی تھی
ادھورے لفظ ہونٹوں سے ادا مشکل سے ہو پاتے
اکثر ایسا ہوتا تھا
اسے کہنا ہو جو مجھ سے
وہ ہمیشہ بھول جاتی تھی
بارہا گفتگو کے درمیاں خاموش ہو جاتی
اپنے سرخ ہونٹوں کو دانتوں میں دبا لیتی
میری ہم کلامی سے بہت بیزار ہو جاتی

اور اب وہی لڑکی، وہی گم سم سی لڑکی
کئی بے رنگ محفل کو اپنے رنگوں سے بھرتی ہے
نئے انداز ہیں اب اسکے
الگ رنگ روپ ہے اسکا
بہت چنچل طبیعت ہے
بہت بے باک ہے اب وہ
وقت کروٹ ہوا ہے یوں
وہ آج جب پاس آ بیٹھی
مجھے کچھ اس سے کہنا تھا
میرے الفاظ لرزہ تھے
میں سب کچھ بھول بیٹھا تھا
اور میرا دل بھی دھڑکا تھا
میں عقل و فہم و دانائی
ان سب سے گریزاں تھا
کہ آج باتوں کا جادوگر
بہت خاموش بیٹھا تھا

Rate it:
Views: 686
28 Oct, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL