مرکے وِصال ہوتا تو مر ہی لیتے تھوڑے دن
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمرکے وِصال ہوتا تو مر ہی لیتے تھوڑے دن
اُن کے بھی تجاوز سے مل ہی لیتے تھوڑے دن
یوں وسعت میں تو سب شوخ ہیں آنکھیں
اپنے مزاج سے وہ مئکدے پیء بھی لیتے تھوڑے دن
کیا خبر تھی کہ اپنے گھر بھی فرضی نکلیں گے
ورنہ وہ پرایا مکان لے بھی لیتے تھوڑے دن
اِن زرگروں نے بڑا باطل رکھا نہیں تو
منسوُخ زخموں کو سیء بھی لیتے تھوڑے دن
بے جا خیالوں نے اڑان بھرتے نہیں سوچا کہ
منزل کی اُن راہوں پہ چل ہی لیتے تھوڑے دن
زندگی کی ذلالت ہمگیر تھی مجھ سے سنتوشؔ
ورنہ موت کی امید پہ جیء بھی لیتے تھوڑے دن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






