مری بات سن مرے اجنبی مرا انتظار کہاں رہا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاترا پیار تھا کہ عذاب ہیں وہ دلوں کا پیار کہاں رہا
"یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا
کہوں کس طرح میں وثوق سےکہ وہ آب ہیں یا سراب ہیں
وہ کرم بلا کا عتاب میں ہیں وہ انکسار کہاں رہا
مری تشنگی کو بڑھا گیا کہ ترا ادھورا جواب ہیں
مری بات سن مرے اجنبی مرا انتظار کہاں رہا
ہے بڑی تپش اسے ڈھونڈیے جو تمازتوں میں سحاب ہیں
مجھے کر عطا وہی رنگ و نور کے سازگار کہاں رہا
مرے پاؤں زخموں سے چور ہیں ترا راستہ بھی خراب ہیں
کوئی اور مجھ سے نہ مہربان وہ پیار پیار کہاں رہا
چلو زیست یوں بھی گزر گئی یہ کہ مشکلات کا باب ہیں
کبھی رنگ بن کے مری ہتھیلی میں قید یار کہاں رہا
ترا خط ہے یا کہ عزاب ہے مرے جان جاں بتا یہ
مجھے زہر بھیجا ہے لفظ میں مرا حرف زار کہاں رہا
تو سراب زاروں میں اب نہ مجھ کو نڈھال کر نہ اے وشمہ جی
تجھے ساتھ اپنے میں لے چلوں ترا اعتبار کہاں رہا
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






