مری ہر سوچ کا ذرّہ ہے بکھرنے والا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامری ہر سوچ کا ذرّہ ہے بکھرنے والا
آج سانسوں سے دھواں سا ہے نکلنے والا
لاکھ رہتا ہے مرے ساتھ مقدّر بن کر
چاند ہوتا نہیں ہر تارا چمکنے والا
رسمِ دنیا ہے یہ آداب! تو کہنا ہو گا
کتنا مشکل ہے کہ سمجھے نہ سمجھنے والا
رات تو کٹ گئی غم یار مناتے اپنی
آؤ اب گھر چلیں سورج ہے نکلنے والا
گر یہ ممکن ہے تو اک بار ذرا دیکھ تو لو
مثلِ بسمل ہے وہ پھر آج تڑپنے والا
بہہ نہ جائیں تری یادوں کے گھروندے وشمہؔ
مری آنکھوں سے سمندر ہے اترنے والا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






