کچھ دن سے تار تار ہمارا ہوا نصیب
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاکچھ دن سے تار تار ہمارا ہوا نصیب
ہے ساتھ ساتھ میرے یہ ہارا ہوا نصیب
پہنا ہوا ہے میں نے کہ پہچان ہے تری
تو دے گیا ہے مجھ کو اتارا ہوا نصیب
بکھڑی پڑی ہیں کرچیاں تیرے خیال کی
بکھڑا پڑا ہے ہر سو سنوارا ہوا نصیب
جب زندگی یہ درد کی موجوں کی زد میں تھی
دریا کے درمیان کنارہ ہوا نصیب
کیا بات ہے کہ آج مرے نام کر دیا
مجھ کو بھی اک وفا کا شمارہ ہوا نصیب
الزام میں نے قادرِ مطلق پہ دھڑ دیا
خود اپنے ہاتھ سے ہے بگاڑا ہوا نصیب
وہ جاتے جاتے جب مجھے تنہائی دے گیا
اک اجنبی کا مجھ کو سہارا ہوا نصیب
مجھ کو بھی آج اپنے مقدر پہ رشک ہے
جو ساتھ تیرا مجھ کو دوبارہ ہوا نصیب
سجدہ شکر کروں گی محبت کے سامنے
یہ پیار تیرا سارے کا سارا ہوا نصیب
اس آسمان زیست سے شکوہ ہے برملا
مانگا جو چاند میں نے تو تارا ہوا نصیب
جانے وہ لوگ کون ہیں وشمہ جہان میں
اس زندگی میں جن کا ستارہ ہوا نصیب —
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






