مظلوم عورتوں کے نام

Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, Sadiqabad

یہ ظلم عورتوں پہ سحر، شام، اُف
ہے اک نئ مصیبت بہر گام، اُف

یہ عورت کے حق میں ہے تقسیم کیا
نہیں کام اس کو بجز کام، اُف

جو بیٹی ہے بیوی ہے اور ماں بھی ہے
اسے پھر بھی دیتے ہو دشنام، اُف

یہ عورت سے جا کر ہی پوچھے کوئ
جو عورت پہ چلتی ہے صمصام، اُف

یہ ہے معاشرہ کس طرح کا جہاں
ہے تحقیرِ نسواں سرِ عام، اُف

فکر جس کو سب کی ہے اس کے لیے
نہ عزت، نہ عظمت، نہ اکرام، اُف

کسی بہن کو کر کے برباد لوگ
سمجھتے ہیں خود کو وہ ضرغام، اُف

اِدھر تو گلِ تر سی لڑکی ہے اور
اُدھر بھیڑیا، دُرد آشام، اُف

جگر یہ اگر ہے تو عورت کا ہے
نہیں کرتی سہہ کے جو آلام، اُف

یہ عورت کی قسمت میں لکھی ہے بات
قبر میں کرے گی وہ آرام، اُف

اگر اس کو کہہ دے تو پھٹ جاۓ دل
ہے عورت کا وہ دردِ ابہام، اُف

کبھی تو سدھر جاۓ گا معاشرہ
تم، تمہارے یہ اوہام، اُف

Rate it:
Views: 963
15 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL