مظلوم عورتوں کے نام
Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, Sadiqabadیہ ظلم عورتوں پہ سحر، شام، اُف
ہے اک نئ مصیبت بہر گام، اُف
یہ عورت کے حق میں ہے تقسیم کیا
نہیں کام اس کو بجز کام، اُف
جو بیٹی ہے بیوی ہے اور ماں بھی ہے
اسے پھر بھی دیتے ہو دشنام، اُف
یہ عورت سے جا کر ہی پوچھے کوئ
جو عورت پہ چلتی ہے صمصام، اُف
یہ ہے معاشرہ کس طرح کا جہاں
ہے تحقیرِ نسواں سرِ عام، اُف
فکر جس کو سب کی ہے اس کے لیے
نہ عزت، نہ عظمت، نہ اکرام، اُف
کسی بہن کو کر کے برباد لوگ
سمجھتے ہیں خود کو وہ ضرغام، اُف
اِدھر تو گلِ تر سی لڑکی ہے اور
اُدھر بھیڑیا، دُرد آشام، اُف
جگر یہ اگر ہے تو عورت کا ہے
نہیں کرتی سہہ کے جو آلام، اُف
یہ عورت کی قسمت میں لکھی ہے بات
قبر میں کرے گی وہ آرام، اُف
اگر اس کو کہہ دے تو پھٹ جاۓ دل
ہے عورت کا وہ دردِ ابہام، اُف
کبھی تو سدھر جاۓ گا معاشرہ
تم، تمہارے یہ اوہام، اُف
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






