معلوم نہیں کیا کہتی ہے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanاُس کا انداز کیا کہتا ہے خشک زبان کیا کہتی ہے
ٹوٹے ارمان کیا کہتے ہیں جھکی نظر کیا کہتی ہے
اظہارِ بیان کیسا سادہ ہے پر کیسی ہے کشمکش
اگرچہ ساغر پاس ہے لبوں کی پیاس معلوم نہیں کیا کہتی ہے
کسی کو چاہتی ہے سب سے چھپا کر اپنا ارمان بنا کر
رات کو چاند دیکھتی ہے حیا کی چادر اوڑھ کر
تلاش اس میں اپنے محبوب کو کرے سپنوں میں کھو کر
کھوئی ہوئی نگاہ شام سے معلوم نہیں کیا کہتی ہے
اپنا سب کچھ اسی کو جانے اپنی سحر و شب مانے
موسم اسی کے دم سے ہیں خوشگوار دل بہار اس کے
نرم و نازک سی وہ چنچل اس انجان کو اپنی زندگی جانے
زلفوں میں اس کے ہاتھوں کی جنبش اس پل سے معلوم نہیں کیا کہتی ہے
اک دن کی قربت اس کی زندگی پر چھا گئی
بچھڑنے والے وہ لمحات اسے عجب سا انتظار دے گئے
ریگستان میں سراب کی طرح اپنے محبوب کو وہ نادان پائے
محبت کی ریت پر جلتی ہوئی صورت معلوم نہیں کیا کہتی ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






