معلوم نہیں کیا کہتی ہے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanاُس کا انداز کیا کہتا ہے خشک زبان کیا کہتی ہے
ٹوٹے ارمان کیا کہتے ہیں جھکی نظر کیا کہتی ہے
اظہارِ بیان کیسا سادہ ہے پر کیسی ہے کشمکش
اگرچہ ساغر پاس ہے لبوں کی پیاس معلوم نہیں کیا کہتی ہے
کسی کو چاہتی ہے سب سے چھپا کر اپنا ارمان بنا کر
رات کو چاند دیکھتی ہے حیا کی چادر اوڑھ کر
تلاش اس میں اپنے محبوب کو کرے سپنوں میں کھو کر
کھوئی ہوئی نگاہ شام سے معلوم نہیں کیا کہتی ہے
اپنا سب کچھ اسی کو جانے اپنی سحر و شب مانے
موسم اسی کے دم سے ہیں خوشگوار دل بہار اس کے
نرم و نازک سی وہ چنچل اس انجان کو اپنی زندگی جانے
زلفوں میں اس کے ہاتھوں کی جنبش اس پل سے معلوم نہیں کیا کہتی ہے
اک دن کی قربت اس کی زندگی پر چھا گئی
بچھڑنے والے وہ لمحات اسے عجب سا انتظار دے گئے
ریگستان میں سراب کی طرح اپنے محبوب کو وہ نادان پائے
محبت کی ریت پر جلتی ہوئی صورت معلوم نہیں کیا کہتی ہے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






