مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
Poet: سید نیر مقیت By: Syed Neer Muqeet my, Karachiمغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں پیچیدہ ہے وہ بھی
کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر
میں سوچ رہا ہوں میاں سنجیدہ ہے وہ بھی
آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے لرزیدہ ہے وہ بھی
میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں بوسیدہ ہے وہ بھی
کچھ ہو رہا تھا ہو چکا باہوں کی تپش میں
میرا جنوں بھی ٹل گیا خوابیدہ ہے وہ بھی
جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی
اس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی
More Love / Romantic Poetry






