مقدر میں بچھڑنا ہے تو لوگ ملتے کیوں ہیں

Poet: UA By: UA, Lahore

مقدر میں بچھڑنا ہے تو لوگ ملتے کیوں ہیں
مرجھا جانا مقدر ہے تو پھول کھلتے کیوں ہیں

نگاہیں چار ہونا پھر جدا ہو جانا قسمت ہے
نگاہوں نے بدلنا ہے تو نین ملتے کیوں ہیں

دریدہ دامنی کب تک رفو گر سیتے جائیں گے
دوبارہ چاک ہونے ہیں تو زخم سلتے کیوں ہیں

مسافر، اجنبی راہوں کے ہمراہی بن جاتے ہیں
بچھڑ جاتے ہیں راہوں میں راہی ملتے کیوں ہیں

اجنبی آشنا بن کر ۔۔۔۔۔ آشنا اجنبی بن کر
ملتے ہیں جدا ہوتے ہیں آخر ملتے کیوں ہیں

یہی اسرار تو اب تک مجھے ہر دم کھٹکتا ہے
ساتھ جب چھوٹ جانا ہے مسافر ملتے کیوں ہیں

بیچارے دل کا بھی تو بس یہی اک رونا ہے عظمٰی
ستارے جب نہیں ملتے تو پھر دل ملتے کیوں ہیں

Rate it:
Views: 2122
13 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL