کالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے
Poet: آفتاب شکیل By: راحیل, Karachiکالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے
اور یہاں سچ بولنے والا سچ میں سب سے جھوٹا ہے
میں تیرے دیدار کی خاطر آ جاتا ہوں خوابوں تک
ورنہ اس لذت کے علاوہ نیندوں میں کیا رکھا ہے
چمکیلے کپڑوں سے پرکھا مت کر انسانی لہجے
گہرے کنویں میں اجلا پانی کھرا بھی ہو سکتا ہے
وعدہ کر اے دل کش لڑکی وصل سے لے کر ہجر تلک
رشتہ چاہے جیسا بھی ہو خرچہ اپنا اپنا ہے
میں تیرے شکوے بھی جاناں بالکل ایسے سنتا ہوں
جیسے بچپن میں کوئی بچہ غور سے قصے سنتا ہے
میرے خفا ہونے پر اس کا وہ الٹا فلمی جملہ
پیار سے ڈر نہیں لگتا صاحب تھپڑ سے ڈر لگتا ہے
جب لوگو نے سودائی کی لاش اتاری تب بولے
یہ تو زندہ مر ہی چکا تھا پنکھے سے کیوں لٹکا ہے
میں اس ڈر سے کافی پینے تیرے ساتھ نہیں جاتا
تجھ کو تو کافی کے بہانے مجھ سے لڑنا ہوتا ہے
مجھ کو بونے تھے دل میں اور کسی کے غم آفیؔ
لیکن دل کی سرخی زمیں پر اب تک اس کا قبضہ ہے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






