منتظر آج بھی ہوُں چاہنے والوں کی طرح
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمنتظر آج بھی ہوُں چاہنے والوں کی طرح
آ بھی جا دِل کے دریچے میں اُجالوں کی طرح
بوُالہوس کویٔ نہ جذبے مِرے پامال کرے
بن کے رہتی ہوں میں ہر دِل میں مثالوں کی طرح
مجھ پہ نیندوں کے بھی بے خواب دریچے نہ کھُلے
خوُد سے اُلجھی رہی بے رنگ سوالوں کی طرح
میرے جذبوں میں ہے خوشبوُ مِرے ارمانوں کی
میرا ہر شعر ہے خوش رنگ حوالوں کی طرح
بالکونی میں کھڑی سوچ رہی ہوں کب سے
سالِ نو بھی نہ ہو بیتے ہوۓ سالوں کی طرح
ہجر کی چلتی ہیں شمشیریں ، جہاں چلتی ہوُں
اور میں سینہ سپر رہتی ہوں ڈھالوں کی طرح
میں تو رہتی ہوں رفاقت کے سبھی در کھولے
کویٔ آ تا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح
جو بھی کہنا ہے تمہیں، کھل کے وہ سب کہہ ڈالو
مجھ کو اُلجھاؤ نہ بے ربط خیالوں کی طرح
آئینے کستے ہیں آوازے مجھی پر عذرا
اور میں رہتی ہوُں انجانے سوالوں کی طرح
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






