منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب میری
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمنتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
دیکھتا ہوں میں ہر اک لمحہ یہاں راہ تری
میرے ویرانے میں آجا تو بہاروں کو لیے
اپنے معصوم سے چہرے کے نظاروں کو لیے
پیار سے تھام لے آکر مرے ہاتھوں کو ذرا
موتیے اور گلابوں بھرے ہاروں کو لیے
کس قدر پیاسی ہے تیرے لیے یہ روح مری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
یاد ہے آج بھی وہ شام وہ ویران شجر
جس کے نیچے تو کھڑی سوچ رہی تھی بے خبر
بنسری کوئی بجاتا تھا کہیں دور بہت
اس کی تانوں کا ترے دل پہ ہوا کتنا اثر
اور کچھ سوچ کے چپکے سے پھر اک آہ بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
بالیاں کانوں میں پہنے تو چلی آتی ہے
میرے خوابوں میں ، تصور میں مسکراتی ہے
چوڑیاں تیری کھنکتی ہیں خیالوں میں مرے
اور گھونگٹ سے مجھے دیکھ کے شرماتی ہے
تیری ہر سانس ہے پھولوں کی طرح خوشبو بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
دور رہتی ہے ترے پاس میں آ سکتا نہیں
سوچتا ہوں کہ تجھے پا کے بھی پا سکتا نہیں
خود سے کہتا ہوں تجھے بھول ہی جاؤں لیکن
میری محبوب ! تجھے دل سے بھلا سکتا نہیں
کاش ہوتی نہ مجھے ایسی کوئی مجبوری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






