منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب میری

Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
دیکھتا ہوں میں ہر اک لمحہ یہاں راہ تری

میرے ویرانے میں آجا تو بہاروں کو لیے
اپنے معصوم سے چہرے کے نظاروں کو لیے
پیار سے تھام لے آکر مرے ہاتھوں کو ذرا
موتیے اور گلابوں بھرے ہاروں کو لیے

کس قدر پیاسی ہے تیرے لیے یہ روح مری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری

یاد ہے آج بھی وہ شام وہ ویران شجر
جس کے نیچے تو کھڑی سوچ رہی تھی بے خبر
بنسری کوئی بجاتا تھا کہیں دور بہت
اس کی تانوں کا ترے دل پہ ہوا کتنا اثر

اور کچھ سوچ کے چپکے سے پھر اک آہ بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری

بالیاں کانوں میں پہنے تو چلی آتی ہے
میرے خوابوں میں ، تصور میں مسکراتی ہے
چوڑیاں تیری کھنکتی ہیں خیالوں میں مرے
اور گھونگٹ سے مجھے دیکھ کے شرماتی ہے

تیری ہر سانس ہے پھولوں کی طرح خوشبو بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری

دور رہتی ہے ترے پاس میں آ سکتا نہیں
سوچتا ہوں کہ تجھے پا کے بھی پا سکتا نہیں
خود سے کہتا ہوں تجھے بھول ہی جاؤں لیکن
میری محبوب ! تجھے دل سے بھلا سکتا نہیں

کاش ہوتی نہ مجھے ایسی کوئی مجبوری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری

Rate it:
Views: 997
21 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL