وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو
بہت ممکن یہ وہی آدمی ہو

میں ٹھہرا آبشار شہر پر فن
گھنے جنگل میں تم بہتی ندی ہو

بہت مصروف ہے انگشت نغمہ
مگر تم تو ابھی تک بانسری ہو

میری آنکھوں میں ریگستاں بسے ہیں
کوئی ایسے میں ساون کی جھڑی ہو

دیا جو بجھ چکا ہے پھر جلانا
بہت محسوس جب میری کمی ہو

یہ شب جیسے کوئی بے ماں کی بچی
اکیلے روتے روتے سو گئی ہو

وہ دریا میں نہانا چاندنی کا
کہ چاندنی جیسے گھل کے بہہ رہی ہو

کہانی کہنے والے کہہ رہے ہیں
مگر جانے وہی جس پر پڑی ہو

میاں! دیوان کا مت رعب ڈالو
پڑھو کوئی غزل جو واقعی ہو

غزل وہ مت سنانا ہم کو شاعر
جو بے حد محفلوں میں چل چکی ہو

Rate it:
Views: 402
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL