موسم ہجر میں زخموں سے لدا رہتا ہے
Poet: آفتاب شکیل By: ساجد ہمید, Quettaموسم ہجر میں زخموں سے لدا رہتا ہے
دل وہ پودھا کے جو پت جھڑ میں ہرا رہتا ہے
بس یہ اک بات مجھے لاتی ہے نزدیک ترے
تو بھی تو میری طرح خود سے خفا رہتا ہے
تبصرہ اتنا ہی کافی ہے محبت کے لئے
مختصر سودے میں نقصان بڑا رہتا ہے
ہم سے بہتر ہے مقدر میں سیاہ پتھر جو
بن کے سرما تری پلکوں سے لگا رہتا ہے
کیا قصیدہ ترے رخسار کے تل کا یوں سمجھ
اک نگینہ ہے انگوٹھی میں جڑا رہتا ہے
در و دیوار سسکتے ہے کمی پر تیری
گھر میں خاموشی کا اک شور بپا رہتا ہے
اس کی آنکھیں ہے یا آباد کنویں ہے آفیؔ
آب غم جن میں مسلسل ہی بھرا رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






