ميں نے بيچی هيں بازار-ے-محبت ميں اپنئ خبط آنكهيں،

Poet: Neelam By: Neelam, Lahore

كائنات ميں نہيں ملتئ مجهے اس جيسی كافر آنكهيں 
ہزار آنكهوں ميں ديكهيں مشاہبتيں اس جيسی 

خالق نے بنائي ہيںكيا اس كی گہری آنكهيں 
ان آنكهؤں كے كهو جانے كے بعد خاك ہيں ميری آنكهيں 

ميری ہستی ہی طلب گار تهی اس كی كامل آنكهيں 
اپنی آنكهؤں كے كٹوروں ميںچهپا ركهی ہيں اس كی آنكهيں 

بےچين هو كر تك رهی هيں اس كی واپسی كی راہيں 
ميں نے بيچی هيں بازار-ے-محبت ميں اپنئ خبط آنكهيں 

اس كی ديد كو ترس رهی هيں ميری منتظر آنكهيں 
بهگت رهی هيںخميازه وفا كو نبهانے كے لئے ميری آنكهيں 

ميںجب بهی ڈوب كر دیكهتی تهئ وه جمال آنكهيں 
كہتا تهاجان-ے-زندگی هيں ميری   ليكن ميری برداشت نہيں هيں تيری آنكهيں 

فراق كے بعد سے كيفيت-ے-كم خواب هيں ميری آنكهيں 
اس كی ديد كے ليے كاسہ-ے-گدائ هيں ميری آنكهيں

Rate it:
Views: 475
22 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL