مَیں کس طرح کروں نہ غم لٹ گئے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaمَیں کس طرح کروں نہ غم لٹ گئے
پھٹا مصیبتوں کا بم لٹ گئے
وہ ہوشیار جن کو لوٹنے گئے
وہ بچ گئے غریب ہم لٹ گئے
لطیفِ گفتگو میں یوں محو ہوئے
ہوا نہیں ذرا وہم لٹ گئے
ابھی تلک یقین کیوں ہوا نہیں
یہ مان لو خدا قسم لٹ گئے
ردا مری نگاہ پہ یوں ڈال کے
وہ سوچ کے چلے قدم لٹ گئے
ہمیں تو ان کی چاہ پہ نہ شک ہوا
یوں کر کے جعفری بھرم لٹ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






