مکالماتی نظم
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMmمیں نے کہا کب دن سہانے آہیں گے
اس نے کہا جب وہ پرانے زمانے آئیں گے
میں نے کہا گزرازمانہ آتا نہیں دوبارہ
اس نے کہا پھر تونہیں کوئی چارہ
میں نے کہا مجھے رات بھر نیند نہیں آتی ہے
اس نے کہا کیا میری یاد ستاتی ہے
میں نے کہا کبھی خوابوں میں ملنے آیا کرو
اس نے کہا بزم خیال میں ہمیں بلایا کرو
میں نے کہا کیا قیمت ہے آپ کے دل میں رہنے کی
اس نے کہا تجھے ہمت ہی کہاں ہے کرایہ دینے کی
میں نے کہا چند دن مہمان سمجھ کر رکھ لیجیے
اس نے کہا پہلے اکیلے پن کا مزہ چکھ لیجیے
میں نے کہا عمر کے ساتھ وزن بھی بڑھتا جا رہا ہے
اس نے کہا میں فون رکھتی ہوں کوئی آ رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







