مہک رہا ہے فضاؤں میں پیار کا موسم (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمہک رہا ہے فضاؤں میں پیار کا موسم
اداس کرنے لگا ہے بہار کا موسم
ترے لبوں کے گلابوں سے دور ہوں کتنا
تری نظر کی شرابوں سے دور ہوں کتنا
کب آئے گا مرے دل کے قرار کا موسم
اداس کرنے لگا پھر بہار کا موسم
لبوں پہ پیار کے نغمات آج سجنے لگے
ہر ایک سمت فضاؤں میں ساز بجنے لگے
آ لوٹ جائے نہ رک کے ستار کا موسم
اداس کرنے لگا پھر بہار کا موسم
ہوں بے قرار جھلک ایک بار دکھلا جا
محبتوں کو لیے میری دلربا آ جا
ستا رہا ہے ترے انتظار کا موسم
اداس کرنے لگا پھر بہار کا موسم
مہک رہا ہے فضاؤں میں پیار کا موسم
اداس کرنے لگا پھر بہار کا موسم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






