عجب ہے نا کہ بہاروں نے پھول کھلنے نہ دیا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaعجب ہے نا کہ بہاروں نے پھول کھلنے نہ دیا
رسم و رواج نے ہم دونوں کو مِلنے نہ دیا
غموں کے طوفان اُٹھے ، اشکوں کے سیلاب آئے
ترے پیار نے مجھے وفا سے ہِلنے نہ دیا
تُم تو پھر بھی غیر تھے تمہارا فرض بنتا تھا
مجھے سکون تو لینے میرے اپنے دل نے نہ دیا
کھُلے دروازے رہیں یادوں کی جیل کے ہر وقت
بیتے دنوں نے مجھے اِس قید سے نکلنے نہ دیا
پہلے تُم بدلے ، پھر موسم ، پھر وقتِ انجمن
اِ س بدلتے دور میں بھی خود کو بدلنے نہ دیا
محبت کا نعرہ لگایا دلِ بے تاب نے جاناں!
اشکوں کی بارش ، کرب کا کیچڑ مگر، پسلنے نہ دیا
تری تلاش میں سورج نکلا ، شام ہوئی اور پھر رات
آرزو کا آفتاب اندھیروں میں مگر ڈھلنے نہ دیا
خدا جانتا ہے میرے تمام فراق کے حالات یارا
دل کے علاوہ کوئی چراغ میں نے جلنے نہ دیا
بہت آئے درد بانتنے میرے تری جدائی کے جاناں
ترا ایک بھی درد کسی کو مگر نہال گِل نے نہ دیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






