میرا بھی دل چاہتا ہے کہ چاہی جاؤں
Poet: فرزين علي By: Farzeen Alee, Hyderabadمیرا بھی دل چاہتا ہے کہ چاہی جاؤں
کسی کے خیال میں رہوں
خوابوں میں سجائی جاؤں
نیند بن جاؤں اسکی،
خواب بنے وہ میرے
آئینہ وہ میرا میں اس کا عکس ہو جاؤں
میری تزئين کی لو جلتی رہے اس کے دل میں
اس کے تصور کی میں وہ
خوبصورت تصویر بن جاؤں
میرے لیے ہی وہ لفظ تراشے،
میری میری تعریف کو
میں اس شاعر کی وہ واحد تخلیق بن جاؤں
میرا بھی دل چاہتا ہے کہ چاہی جاؤں
کسی کے خیال میں رہوں،
خوابوں میں سجائی جاؤں.
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






