میرا طواف
Poet: Korish By: Korish, DERA GHAZI KHANمیری سوچ کا وہ مرکز٬ میرے طواف میں وہ شامل
اک شخص میری روح میں ہے اس طرح سے شامل
ہر دم وفا میں چاہوں٬ ہے یہی میرا تقاضہ
وہ سمندر وفا ہے٬ جفا نہ اس میں شامل
میری سانس اس کی چاہت٬ وہ بندگی بھی میری
وہ شخص یوں بھی میری عبادتوں میں شامل
اس کے روٹھنے سے ٹوٹے حیات تسلسل
میرے خوف٬ میری کپکپاہٹ میں رہتا ہے وہ تو شامل
میں دل وہ میری دھڑکن وہ آرزو بھی کورشِ
رکھوں گا خود میں اس کو میں اس طرح سے شامل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






