میری آرزو اب تک ہے چاہت لیئے چلا نہ پائے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری آرزو اب تک ہے چاہت لیئے چلا نہ پائے
تیری یاد بھی کیا یاد تھی بس بے وجہ بھلا نہ پائے
اُن خطوں میں لفظوں سے کوئی آہٹ سنی تھی
آندھیاں کتنی تیز آئی مگر انہیں اڑا نہ پائے
میں ماہتاب تھا مرگیا تیری حسرت کا حساب لیکر
اٹھی کوئی شرط آج کہ میرا دل ہے سزا نہ پائے
ہم ان آنکھوں میں رہے تو بھی اشکوں کی طرح
اسی نظر سے گرے یوں کہ آج تک اٹھا نہ پائے
ناداری کے ساتھ ہم صنوبر کے پیاسے بھی تھے
سمندر کو کس کی بے رخی کہیں اور بہا لے جائے
حیات نہ جانے کس وسعت تک زندہ رکھے گی
وقت کی رفتار سے لوٹنا کہیں موت ہو نہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






