وہ چلمن میں کوئی پھول کلی ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ چلمن میں کوئی پھول کلی ہے
سارے شہر میں یہ بات چلی ہے
آج گلزار سے کچھ پھول اٹھا کر
تنہا سرکشی آخر کہاں چلی ہے
نہ ہمسائے ،اور نہ ہی کوئی منزل
دیوانوں کو یہ کیسی راہ ملی ہے
خوشبوءَ ہواؤں سے مل کر گذری
شاید حسرتوں کو کہیں آگ لگی ہے
چلو پہلُو سے ٹکرکے دیکھتے ہیں
ہمارے گذر کی ایک ہی گلی ہے
ملے تو تال سے تال ملاکر سنتوش
یوں کہدوں گا بھی تو علی علی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






