میری آنکھوں سے آنسو

Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birmingham

میری آنکھوں سے گرآنسو برستےہیں توبرسنےدو
تمہیں کیا گریہ ملنے کو ترستےہیں توترسنےدو

میرےدل سےتمہیں بیر کیوں ہےیہ توبتلا دو
تمہیں کیا گردل کےزخم رستےہیں تورسنےدو

علاج زخم دل تم کو ہی کرنا ہے چلے آؤ
ستم کےتیرگر ہم پر برستے ہیں توبرسنےدو

ہمارےحوصلے دیکھواسیری میں بھی ہنستےہیں
بچھاؤجال تم اپنےجوہم پھنستےہیں توپھنسنےدو

وفاشیوہ ہمارا ہےوفا ہم کرتے رہتے ہیں جاناں
ہمارےحال پرلوگ گرہنستےہیں توہنسنےدو

محبت کی عدالت میں ہماری پیشی کیاہوگی
ہمارے نام کےپرچےگرکٹتے ہیں تو کٹنےدو

تم کو ہی چاہا ہے فقط تم کو ہی چاہیں گے
جولوگ ہماری محبت سےجلتےہیں تو جلنےدو

تیری فرقت نے دیوانہ بناڈالا ہےتیرے اصغر کو
یہ دن ناگ بن بن کرڈستےہیں تو ڈسنےدو

Rate it:
Views: 695
27 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL