میری آنکھوں سے پی جا تجھے مئخانہ ملے گا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری آنکھوں سے پی جا تجھے مئخانہ ملے گا
یہ زندگی کٹ گئی تو موت کو بہانہ ملے گا
تم ٹھہرنا چاہو تو من کا مکان خالی ہے
آکر دل میں بیٹھو یہاں بھی ٹھکانہ ملے گا
کیوں دنیا میں پھر خوشیاں ڈھونڈنے نکلے ہو
اگر تم سچے ہو تو تجھ میں ہی زمانہ ملے گا
نہ پوچھو اپنے آپ سے اپنی بربادی کا سبب
خود سے روٹھو گے تو کہاں آشیانہ ملے گا
باہر اجالوں کی تلخیاں روشن ہیں کتنی
اندر جاکے آنکھ جھپکو تو سب ویرانہ ملے گا
میری سبھی الجھنوں کو پھر سے بکھیرکے دیکھو
برسوں پہلے لگی آگ کا نشانہ ملے گا
آدمی تو اپنی خودی لیکر تنہا ہو جاتا ہے لیکن
سنتوش کی حسرتیں دیکھ کہ اک دیوانہ ملے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






