چاہتی ہوں تجھے یاد سے ہی بھلادوں

Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithi

چاہتی ہوں تجھے یاد سے ہی بھلادوں
پھر بڑی سانس لیتے عجیب سا لگتا ہے

اٹھایا جو قلم تھا تیرا نام ہی لکھ دیا
یوں انگلیاں کپکپاتے عجیب سا لگتا ہے

میرے حسرتوں نے نیلامی کی انتہا کردی
خود ہی سے پوچھتے بڑا عجیب سا لگتا ہے

تو کیا جانے کہ اپنا کون پرایا کون؟
یہ اپنی دل کو کہتے عجیب سا لگتا ہے

زندگی بے مروتوں کے غم میں ہی گذر گئی
بڑی سردمہری پر سوچتے عجیب سا لگتا ہے

وہ بستر کی کروٹیں اور بانہوں کی نرمیاں
خواب و خیالوں سے جگتے عجیب سا لگتا ہے

تنہا راتوں میں یہ تیرے بچھڑنے کاغم
سب ستاروں کو یہی بتاتے عجیب سا لگتا ہے

سبھی پریشانیاں اب پلکوں میں آ رک گئیں
اٹکے آنسوؤں کو پھر گراتے عجیب سا لگتا ہے

تجھے بڑا جگر تو بچوں کے ضد پہ مت جا
دکھی دل کو یوں بہلاتے عجیب سا لگتا ہے
 

Rate it:
Views: 459
28 Dec, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL