چاہتی ہوں تجھے یاد سے ہی بھلادوں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiچاہتی ہوں تجھے یاد سے ہی بھلادوں
پھر بڑی سانس لیتے عجیب سا لگتا ہے
اٹھایا جو قلم تھا تیرا نام ہی لکھ دیا
یوں انگلیاں کپکپاتے عجیب سا لگتا ہے
میرے حسرتوں نے نیلامی کی انتہا کردی
خود ہی سے پوچھتے بڑا عجیب سا لگتا ہے
تو کیا جانے کہ اپنا کون پرایا کون؟
یہ اپنی دل کو کہتے عجیب سا لگتا ہے
زندگی بے مروتوں کے غم میں ہی گذر گئی
بڑی سردمہری پر سوچتے عجیب سا لگتا ہے
وہ بستر کی کروٹیں اور بانہوں کی نرمیاں
خواب و خیالوں سے جگتے عجیب سا لگتا ہے
تنہا راتوں میں یہ تیرے بچھڑنے کاغم
سب ستاروں کو یہی بتاتے عجیب سا لگتا ہے
سبھی پریشانیاں اب پلکوں میں آ رک گئیں
اٹکے آنسوؤں کو پھر گراتے عجیب سا لگتا ہے
تجھے بڑا جگر تو بچوں کے ضد پہ مت جا
دکھی دل کو یوں بہلاتے عجیب سا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






