میری آوارگی نے اوڑھ لی جب شام کی چادر
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمیری چاہت نے تانی ہے تمہارے نام کی چادر
مگر تمہاری سوچوں پر ہے اک ابہام کی چادر
جکڑ ڈالا کسی کے ریشمی احساس نے دل کو
میری اوارگی نے اوڑھ لی جب شام کی چادر
بہت ممکن ہے کہ لوگوں کو اپنا پیار نہ بھائے
چلو پھر ڈال دو اس پر کسی الزام کی چادر
محبت بانٹتے رہنا میری گھٹی میں شامل ہے
تیرے اطراف پھیلی ہے میرے پیغام کی چادر
جنہیں چھو کر نہیں گزرے کبھی فردا کے اندیشے
کئی لمحوں نے لے رکھی ہے ان ایام کی چادر
حوادث سے اٹےمغموم چہرے راہ مقتل پر
لئے پھرتے ہیں آنکھوں پر نئے کہرام کی چادر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






