وہ چکر اور ہی کچھ تھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتیری محفل میں آئے ہم تو حاضر اور ہی کچھ تھا
تقاضہ اور تھا دل کا ،میسر اور ہی کچھ تھا
پڑا تھا سامنے میرے نہ شیشہ تھا نہ پانی ہی
نہ آیا جب تلک ساقی تو ساغر اور ہی کچھ تھا
کبھی جس کو کسی کی نیلگوں آنکھوں سا کہتے تھے
جو دیکھا ڈوب کے اس میں،سمندر اور ہی کچھ تھا
نہیں تھا اپنی قسمت میں کسی کا ہمقدم رہنا
لکیریں جھوٹ کہتی تھیں،مقدر اور ہی کچھ تھا
نہ تن اپنا، نہ سانس اپنی نہ گھر نہ یہ زمیں اپنی
جسے ہم جینا کہتے تھے وہ چکر اور ہی کچھ تھا
فقط پتھر ہی پتھر تھے وہ سارے موم کے پیکر
حقیقت اور ہی کچھ تھی ،بظاہر اور ہی کچھ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






