میری جان اے جان ناں

Poet: Faraz By: Muhammad Zubair, Multan

تم ہو جواں میری جان جہاں
ہے یہ زندگی حسیں زندگی کا ہے نشاں
میری جاں اے جان ِجاں
تو ہے بندگی میری میں ہوں زندگی تیری
کر سکے گی نہ جدا ہم کو دنیا کبھی
اے زندگی تیری زندگی
تیری آنکھوں کا اشارہ کتنا دلکش پیارا پیارا
تیری بانہوں کا سہار امل گیا
تیری آنکھیوں کی ڈوری میں ہوں چندا تو چکوری
تیری نظروں کا جادو چل گیا
دل میں تم ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان ِجاں
کلیوں میں تم پھولوں میں تم سپنوں میں جان ِجاں
دل میں تم ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان ِجاں
کلیوں میں تم پھولوں میں تم سپنوں میں جان ِجاں
تیرے مکھڑے پے گیسو جیسے ساون کی گھٹائیں
جھکی جھکی نگاہیں کتنی ہیں تیری ادائیں
میری جان اے جان ناں
تو ہے بندگی میری میں ہوں زندگی تیری
کرسکے گی نہ جدا ہم کو دنیا کبھی
اے زندگی تیری زندگی
تیری آنکھوں کا اشارہ کتنا دلکش پیارا پیارا
تیری بانہوں کا سہار امل گیا
تیری آنکھیوں کی ڈوری میں ہوں چندا تو چکوری
تیری نظروں کا جادو چل گیا
دل میں تم ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان ِجاں
کلیوں میں تم پھولوں میں تم سپنوں میں جان ِجاں
دل میں تم ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان ِجاں
کلیوں میں تم پھولوں میں تم سپنوں میں جان ِجاں
دل میں تم ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان ِجاں
کلیوں میں تم پھولوں میں تم سپنوں میں جان ِجاں

Rate it:
Views: 1312
02 Sep, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL