میری حالت بدل نہیں سکتی
Poet: mahmood hussain aakif By: mahmood hussain akif, sialkotمیری حالت بدل نہیں سکتی
شامِ غم کیونکہ ڈھل نہیں سکتی
احترامِ اُصولِ عشق سے اب
بات منہ سے نکل نہیں سکتی
ہمیں کیوں راستوں سے ہٹ جائیں
زندگی رُخ بدل نہیں سکتی
اس قدر غم کے سخت پہروں ہیں
اِک خوشی بھی مچل نہیں سکتی
ایک ہی شخص سے محبّت ہے
اور محبّت بدل نہیں سکتی
اب طبیعت بہت ہی نازک ہے
اور غم میں یہ جَل نہیں سکتی
یوں تو عاکف ہزار چہرے ہیں
یہ نظر تو بہل نہیں سکتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






