محبت پارٹ 2
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامحبت گر خوشی ہے درد بھی ہے اور نوحہ بھی
محبت زندگی ہے اور خوابوں کا جنازہ بھی
محبت کے جہاں میں ہیں ہجر و وصل کے موسم
محبت جشن راحت ہے کبھی ہے مرثیہ، ماتم
محبت جس کو کہتے ہیں وہ کر دیتی ہے تازہ دم
محبت سے چراتے ہیں نظر سب زندگی کے غم
محبت ہاتھ پھیلا کر کسی سے لی نہیں جاتی
محبت خود ہی ہو جاتی ہے قصدا کی نہیں جاتی
محبت کرنے والوں کا ازل سے ہے جہاں دشمن
جو متوالوں کو الفت کے رلائے خون کا سامان
محبت کیف ہے راحت بھی سوز دل بھی وحشت بھی
محبت میں نظر آئے جہنم اور جنت بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






